آپ کا بیٹا اب واپس آگیا ہے اب روئیں نہیں ۔۔ جانیے ایک بیٹا 70 سال بعد اپنی ماں سے کس طرح ملا؟ حقیقت آپ کو بھی رلا دے گی

ایسی بہت سی کہانیاں نظر سے گزری ہیں جس میں دیکھا گیا کہ ایک بچہ یا بچی اپنے اہلخانہ سے بچپن میں جدا ہوگئے ہوں اور ان کی ملاقات پچیس تیس سال بعد والدین سے ہوئی ہو۔

پرانے دور میں جب کوئی بچہ اپنے والدین سے جدا ہوجاتا ہوگا تو اس کی دوبارہ اپنے اہلخانہ سے ملاقات کسی معجزے سے کم نہ ہوتی ہوگی۔ لیکن جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ جہاں کوئی بھی خبر چند منٹ میں پھیل جاتی ہے۔

اب ایک ایسی کہانی آپ کو بتانے جا رہے ہیں جس میں بیٹا اپنی ماں سے 70 سال بعد ملا جس میں سوشل میڈیا کا ایک بہت اہم کردار رہا۔

غیر ملکی نیوز رپورٹ کے مطابق عبدالقدوس منسی نامی شخص کو 10 برس کی عمر میں اپنے چچا کے گھررہنے بھیج دیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور اپنے گھر والوں سے کئی سالوں تک کے لیے جدا ہوگیا تھا۔

اس وقت عبدالقدوس کی پرورش کی ذمہ داری ان کی دو بہنوں نے لی تھی۔

رواں سال اپریل کے مہینے میں ایک دوکاندار نے عبدالقدوس کی ویڈیو بان کر سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کردی تھی جس میں وہ اپنے خاندان کی تلاش میں مدد کی اپیل کر رہے ہیں، عبدالقدوس کو اپنے والدین اور گاؤں کے نام کے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں تھا

آج عبدالقدوس کی تین جوان بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، انہوں نے اپنے خاندان سے ملنے کے لیے مغربی شہر راج شاہی سے لگ بھگ تین سو پچاس کلومیٹر سفر طے کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے عبدالقدوس کی محنت رنگ لائی اور ان کی اپنی والدہ سے ملاقات ہوگئی، انیس سو انتالیس میں پیدا ہونے والے عبدالقدوس نے اس جذباتی لمحات پر کہا کہ ’یہ میری زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے کیونکہ والدہ اور بہن نے ہاتھ پر موجود نشان کے باعث پہنچان لیا ہے۔

عبدالقدوس ٧٠ سالوں سے اپنی ماں کی جدائی کا غم برداشت کر رہے تھے، ضعیف العمر والدہ سے ملاقات کے دوران چھلک پڑے، ماں اپنے بیٹے کو آغوش میں لئے دیر تک روتی رہی، یہ مناظر دیکھنے کے لیے علاقے میں کئی افراد جمع ہوگئے تھے اور دیکھ بیٹے اور ماں کی ایسی ملاقات دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے تھے۔

عبدالقدوس نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ میری مای بہت بوڑھی ہے وہ ٹھیک طرح سے بول نہیں سکتیں، وہ مجھے دیکھنے اور اپنی آغوش میں لینے کے بعد دیر تک روتی رہیں، میں نے انہیں کہا کہ آپ کا بیٹا اب واپس آگیا ہے، اب آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *